اسلام آباد: پاکستان میں آن لائن فراڈ اور مبینہ سائبر جرائم کے خلاف کارروائی کے دوران 284 غیر ملکی شہریوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے بیشتر افراد کا تعلق چین، ویتنام اور انڈونیشیا سے ہے، جبکہ کچھ دیگر ممالک کے شہری بھی اس کارروائی کی زد میں آئے ہیں۔
یہ کارروائی وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کی جانب سے مبینہ آن لائن فراڈ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کے بعد سامنے آئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار غیر ملکی شہریوں کے خلاف تحقیقات میں ڈیجیٹل شواہد اور دیگر معلومات حاصل کی گئی ہیں۔
غیر ملکی شہری پاکستان کیسے پہنچے؟
تحقیقات کے مطابق گرفتار کیے گئے زیادہ تر افراد پاکستان میں ٹورسٹ یا وزٹ ویزوں پر آئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق ان میں سے کئی افراد اسلام آباد میں ایک رجسٹرڈ آئی ٹی کاروبار کی آڑ میں سرگرم تھے۔
FIA کے ڈائریکٹر جنرل عثمان انور کے مطابق تحقیقات کے دوران ایسے گروہوں کے بارے میں معلومات سامنے آئی ہیں جو منظم انداز میں آن لائن جرائم میں ملوث ہونے کا شبہ رکھتے ہیں۔
خواتین بن کر لوگوں سے رابطہ کرنے کا الزام
تحقیقات میں سامنے آنے والی ایک اہم بات یہ ہے کہ بعض مشتبہ افراد مبینہ طور پر آن لائن پلیٹ فارمز اور موبائل ایپلی کیشنز پر خواتین کی جعلی شناخت استعمال کرکے پاکستانی شہریوں سے رابطہ کرتے تھے۔
رپورٹس کے مطابق پہلے متاثرہ افراد سے تعلق اور اعتماد قائم کیا جاتا، اس کے بعد انہیں کاروبار یا سرمایہ کاری کے ایسے مواقع پیش کیے جاتے جن میں غیر معمولی منافع کا لالچ دیا جاتا تھا۔
جب متاثرہ شخص رقم منتقل کر دیتا تو مبینہ طور پر رابطہ ختم کردیا جاتا یا اسے بلاک کردیا جاتا۔ حکام کے مطابق اس طریقہ کار سے متعدد پاکستانی شہری مالی نقصان کا شکار ہوئے۔
مقامی افراد کے ملوث ہونے کی بھی تحقیقات
معاملے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ تحقیقات صرف گرفتار کیے گئے غیر ملکی شہریوں تک محدود نہیں رہیں۔
FIA کے مطابق ایسے مقامی سہولت کاروں اور ہینڈلرز کا بھی سراغ لگایا گیا ہے جو مبینہ طور پر اس نیٹ ورک کی مدد کر رہے تھے۔ بعض سرکاری اداروں سے وابستہ افراد کے ممکنہ کردار کی بھی تحقیقات جاری ہیں، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی شخص کے خلاف حتمی کارروائی ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ہی کی جائے گی۔
284 غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ
وزارت داخلہ نے گرفتار افراد کے موجودہ ویزے منسوخ کردیئے ہیں اور انہیں ایک مرتبہ پاکستان سے باہر جانے کے لیے خصوصی اجازت دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق تمام 284 غیر ملکیوں کو ضروری سفری دستاویزات اور دیگر قانونی تقاضے مکمل ہونے کی صورت میں 15 دن کے اندر پاکستان چھوڑنا ہوگا۔
کچھ گرفتار افراد کو ملک بدری کے عمل تک راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے کی بھی اطلاع ہے۔
آئندہ پاکستان آنے پر بھی پابندی
حکام نے ملک بدری کے بعد ان 284 غیر ملکی شہریوں کے نام بلیک لسٹ اور فارنرز کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس اقدام کا مطلب یہ ہوگا کہ مستقبل میں ان افراد کے لیے پاکستان کا ویزا حاصل کرنا ممکن نہیں رہے گا۔
FIA کی تحقیقات مزید جاری
FIA حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی صرف غیر ملکی شہریوں کی ملک بدری تک محدود نہیں ہوگی۔ مبینہ فراڈ میں ان کی مدد کرنے والے مقامی افراد اور دیگر سہولت کاروں کے کردار کی بھی تحقیقات جاری رہیں گی۔
FIA کے مطابق اگر تحقیقات میں کسی بھی شخص کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، چاہے اس کا تعلق کسی بھی عہدے یا ادارے سے ہو۔
آن لائن فراڈ سے عوام کے لیے اہم سبق
یہ کارروائی اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر بننے والے غیر حقیقی تعلقات اور فوری منافع کے دعوے کس قدر خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔
ماہرین عام طور پر صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ کسی نامعلوم شخص کے کہنے پر سرمایہ کاری نہ کریں، غیر معمولی منافع کی پیشکش کو فوری طور پر قبول نہ کریں اور آن لائن رابطے میں اپنی ذاتی یا مالی معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں۔
خاص طور پر ایسی سرمایہ کاری اسکیموں سے محتاط رہنا ضروری ہے جن میں کم وقت میں بہت زیادہ منافع کی ضمانت دی جائے۔
نوٹ: اس خبر میں شامل معلومات 16 اور 17 اگست 2026 کو شائع ہونے والی مختلف میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہیں۔۔