گوگل اور ٹیسلا کے شیئرز میں بڑی کمی، AI پر اربوں ڈالر کے اخراجات نے مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا
AI کی جنگ صرف سافٹ ویئر کی نہیں، انفراسٹرکچر کی بھی ہے
جب عام لوگ مصنوعی ذہانت (AI) کے بارے میں سوچتے ہیں تو ان کے ذہن میں ChatGPT، Gemini، Copilot یا خودکار گاڑیاں آتی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان تمام جدید AI سسٹمز کے پیچھے ایک ایسا انفراسٹرکچر موجود ہے جس پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔
ایک جدید AI ماڈل تیار کرنے کے لیے صرف پروگرامرز کافی نہیں ہوتے۔ اس کے لیے ہزاروں ہائی اینڈ گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs)، لاکھوں گیگا بائٹس ڈیٹا، جدید ڈیٹا سینٹرز، تیز رفتار فائبر نیٹ ورک، بجلی کی مستقل فراہمی، کولنگ سسٹمز اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر درکار ہوتا ہے۔
اسی لیے دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری AI پر کر رہی ہیں۔
گوگل (Alphabet) کا AI وژن
Alphabet کے لیے AI اب ایک اضافی پروجیکٹ نہیں بلکہ اس کے ہر کاروبار کا بنیادی حصہ بنتا جا رہا ہے۔
کمپنی Gemini AI، Google Search، Google Cloud، Workspace، YouTube اور Android میں AI فیچرز شامل کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے نئے ڈیٹا سینٹرز تعمیر کیے جا رہے ہیں، جدید AI سرورز نصب کیے جا رہے ہیں اور لاکھوں صارفین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے عالمی سطح پر کمپیوٹنگ صلاحیت بڑھائی جا رہی ہے۔
گوگل کا مؤقف ہے کہ اگر آج سرمایہ کاری نہ کی گئی تو مستقبل میں مقابلہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔
ٹیسلا: گاڑیوں سے آگے AI کی دنیا
ٹیسلا کی موجودہ حکمت عملی صرف الیکٹرک گاڑیاں فروخت کرنے تک محدود نہیں۔
ایلون مسک کا وژن ایک ایسی کمپنی بنانا ہے جو:
خودکار گاڑیاں تیار کرے۔
انسان نما روبوٹ (Optimus) بنائے۔
AI سپر کمپیوٹرز چلائے۔
روبوٹک مینوفیکچرنگ کو فروغ دے۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی صنعتی نظام تیار کرے۔
اسی لیے Tesla نے Dojo Supercomputer، Full Self-Driving (FSD) اور Optimus جیسے منصوبوں پر مسلسل سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔
سرمایہ کار اس بات سے متفق ہیں کہ یہ منصوبے مستقبل میں انقلابی ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ کمپنی اس سرمایہ کاری سے منافع حاصل کرنے کا واضح راستہ دکھائے۔
Microsoft کیوں پرسکون نظر آتی ہے؟
Microsoft بھی AI پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے، لیکن اس کے شیئرز پر دباؤ نسبتاً کم دیکھا گیا۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ Microsoft کے پاس پہلے ہی Azure Cloud، Office 365، Windows، LinkedIn اور دیگر مستحکم کاروبار موجود ہیں۔
کمپنی AI کو اپنے موجودہ کاروبار کے ساتھ جوڑ کر آمدنی میں اضافہ کر رہی ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو اس کی واپسی (Return on Investment) نسبتاً زیادہ واضح دکھائی دیتی ہے۔
Meta کا منفرد راستہ
Meta نے بھی AI کے شعبے میں اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں، مگر اس کی حکمت عملی مختلف ہے۔
کمپنی نے Llama نامی اوپن ویٹ AI ماڈلز متعارف کرائے ہیں تاکہ AI ایکو سسٹم میں زیادہ سے زیادہ ڈویلپرز کو اپنی طرف راغب کیا جا سکے۔
ساتھ ہی Meta اپنے اشتہاری پلیٹ فارم، Instagram، Facebook اور WhatsApp میں AI کے استعمال کو بڑھا رہی ہے تاکہ اشتہارات کی کارکردگی بہتر ہو اور آمدنی میں اضافہ ہو۔
Amazon اور AI
Amazon کی زیادہ تر AI سرمایہ کاری Amazon Web Services (AWS) کے ذریعے ہو رہی ہے۔
AWS دنیا کے سب سے بڑے کلاؤڈ پلیٹ فارمز میں شامل ہے، جہاں ہزاروں کمپنیاں AI ماڈلز چلاتی ہیں۔
Amazon کا مقصد صرف اپنا AI تیار کرنا نہیں بلکہ دنیا بھر کی کمپنیوں کو AI چلانے کے لیے انفراسٹرکچر فراہم کرنا بھی ہے۔
Nvidia: AI انقلاب کی سب سے بڑی فاتح؟
اگر AI انقلاب کا سب سے بڑا مالی فائدہ کسی کمپنی کو ہوا ہے تو وہ Nvidia ہے۔
دنیا بھر کی تقریباً تمام بڑی AI کمپنیاں Nvidia کے GPUs استعمال کرتی ہیں۔
ہر نیا AI ڈیٹا سینٹر ہزاروں GPUs پر مشتمل ہوتا ہے، جن کی قیمت کروڑوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
اسی وجہ سے Nvidia کی آمدنی میں گزشتہ چند برسوں کے دوران غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
تاہم کچھ تجزیہ کار یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا مستقبل میں مقابلہ بڑھنے سے Nvidia کی موجودہ برتری برقرار رہ سکے گی؟
سرمایہ کار کن اعداد و شمار پر نظر رکھتے ہیں؟
صرف آمدنی (Revenue) یا منافع (Net Income) دیکھنا کافی نہیں ہوتا۔
جدید سرمایہ کار درج ذیل اشاریوں کا بھی جائزہ لیتے ہیں:
1. Capital Expenditure (CapEx)
کمپنی مستقبل کے لیے کتنی سرمایہ کاری کر رہی ہے؟
اگر CapEx بہت زیادہ بڑھ جائے تو قلیل مدت میں منافع پر دباؤ آ سکتا ہے۔
2. Free Cash Flow
تمام اخراجات کے بعد کمپنی کے پاس کتنا نقد سرمایہ بچتا ہے؟
یہ اشارہ کمپنی کی مالی مضبوطی ظاہر کرتا ہے۔
3. Operating Margin
کمپنی اپنے کاروبار سے کتنا مؤثر منافع حاصل کر رہی ہے؟
4. Return on Invested Capital
AI پر خرچ ہونے والی رقم مستقبل میں کتنی واپسی دے گی؟
یہ سوال آج ہر سرمایہ کار کے ذہن میں موجود ہے۔
وال اسٹریٹ کی اصل تشویش
سرمایہ کار AI کے خلاف نہیں ہیں۔
بلکہ ان کا سوال صرف اتنا ہے:
"اگر آج اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں تو ان کا واضح مالی فائدہ کب حاصل ہوگا؟"
اگر AI سے حاصل ہونے والی آمدنی اخراجات کی رفتار سے کم رہی تو کمپنیوں کے منافع میں کمی آ سکتی ہے، جس سے شیئرز مزید دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
کیا AI Bubble بن رہی ہے؟
کچھ مالیاتی تجزیہ کار AI کی موجودہ صورتحال کا موازنہ 1990 کی دہائی کے ڈاٹ کام دور سے کرتے ہیں۔
اس وقت بھی سرمایہ کار انٹرنیٹ کمپنیوں میں بے تحاشا سرمایہ لگا رہے تھے۔
کئی کمپنیاں کامیاب ہوئیں، لیکن بہت سی کمپنیاں چند برس بعد ختم ہو گئیں۔
اسی لیے بعض ماہرین کہتے ہیں کہ AI میں بھی صرف وہی کمپنیاں طویل مدت میں کامیاب ہوں گی جو:
مسلسل جدت لائیں،
اخراجات پر قابو رکھیں،
اور سرمایہ کاری کو منافع میں تبدیل کریں۔
کیا موجودہ گراوٹ خریداری کا موقع ہے؟
اس سوال پر ماہرین کی رائے مختلف ہے۔
ایک گروپ کا خیال ہے کہ مضبوط بنیادی کاروبار رکھنے والی کمپنیوں میں عارضی کمی طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے موقع بن سکتی ہے۔
دوسرا گروپ سمجھتا ہے کہ جب تک AI سرمایہ کاری کے نتائج واضح نہیں ہوتے، مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔
اسی لیے مالی ماہرین مختصر مدتی جذبات کے بجائے کمپنیوں کی بنیادی مالی حالت، مستقبل کی حکمت عملی اور نقد بہاؤ کا باریک بینی سے جائزہ لینے کا مشورہ دیتے ہیں۔
حصہ دوم کا خلاصہ
گوگل، ٹیسلا، مائیکروسافٹ، میٹا، ایمیزون اور اینویڈیا سب ایک ایسی دوڑ میں شامل ہیں جس میں فاتح وہی ہوگا جو AI پر ہونے والی بھاری سرمایہ کاری کو حقیقی کاروباری منافع میں تبدیل کر سکے۔
موجودہ مارکیٹ کی گراوٹ شاید وقتی ہو، لیکن اس نے ایک حقیقت واضح کر دی ہے کہ اب صرف AI کا اعلان کافی نہیں، سرمایہ کار اس کے مالی نتائج بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔