آلو کی برآمدات: حکومتی خاموشی، کسان کا نقصان اور قومی معیشت کا ضائع ہوتا موقع
پاکستان کے ریاستی ادارے ابھی تک کیوں خاموش ہیں یہ بات عام عوام کی سمجھ میں نہیں آ رہی۔ اس وقت ملک جس معاشی تنگی سے گزر رہا ہے آلو کی برآمدات ملکی معیشیت میں ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ عام عوام کی سمجھ میں آنے والی بات پر حکومتی اداروں کی بند آنکھیں عوام کے اندر بے چینی کی لہر میں اضافہ کا باعث بن رہی ہے۔
مارکیٹ میں آلو کی موجودہ قیمت زمیندار کی لاگت پیداوار بھی پوری نہیں کر پا رہی۔
عالمی منڈی میں آلو کی قیمت اس وقت کے موجودہ مقامی قیمت سے بہت اچھا ہے۔
اگر پاکستان آلو کی زائد فصل جو کہ ہر سال تقریباً 7 ملین ٹن کے قریب ہے کو برآمد کرے تو ملکی تجارت اور مالیتی استحکام کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر اوسط قیمت 450 ڈالر فی ٹن کے حساب سے لیں تو 7٫000٫000 × 450 = 3٫150٫000٫000 (3.150 بلین ڈالر) بنتے ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر ملک میں ڈالر آنے سے غیر ملکی زرمبادلہ بڑھے گا نتیجتاً پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ ہو گا۔ ملکی قرضوں کی ادائیگی میں بہتری اور خاطر خواہ کمی آ سکتی ہے۔
آلو پاکستان میں کاشت کی جانے والی بڑی فصلوں میں سے ایک فصل ہے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے بہت سے اضلاع آلو کی اچھی پیداوار اور معیار میں ایک اہم مقام حاصل رکھتے ہیں جو کہ ملک میں ہونے والی پیداوار کا تقریباً 95 فیصد ہے۔
آلو کی پیداوار میں پاکستان کے سر فہرست اضلاع میں قصور، اوکاڑہ اور پاکپتن، ساہیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ ، خانیوال، سکھر، خیرپور، باجوڑ، چترال ، نوشہرہ اور دیگر اضلاع شامل ہیں۔
پنجاب حکومت کے سرکاری اعدادوشمار جو کہ انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کئے کے مطابق سال 2023-24 میں آلو کی پیداوار 8،236،260 ٹن تک ریکارڈ کی گئی جو کہ ملکی ضروریات سے بہت زیادہ تھی۔ تخمینہ کے مطابق ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے 1٫945٫979 آلو چاہئے تھا۔
سال 2024-25 میں زمیندار نے آلو کی بوری 4600 روپے تک منڈی میں فروخت کی جبکہ اس سال وہی بوری 1200 سے 1300 روپے تک فروخت ہو رہی ہے۔
اضافی آلو کی پیداوار کا زیادہ تر حصہ بذریعہ افغانستان برآمد کیا جاتا تھا جہاں سے یہ پاکستانی آلو وسطی ایشیائی اور خلیجی ممالک میں پہنچتا تھا۔ جس کے نتیجے میں کثیر زرمبادلہ پاکستان آتا تھا اور زمیندار خوشحال تھا۔
افغانستان کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے نتیجے میں آلو کی برآمدات بذریعہ افغانستان ختم ہو گیئں نتیجتاً آلو کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ موجودہ آلو کی قیمتوں میں کسانوں کی لگائی گئی لاگت پوری نہیں ہو رہی۔ چھوٹے کاشتکار اس سے براہِ راست اثرانداز ہوئے ہیں اور اگلی فصل کاشت کرنے کے لیے بہت سارے قرض لینے پر مجبور ہوگئے ہیں اور بہت سارے امداد کے منتظر ہیں۔
غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے چھوٹا زمیندار آلو کی فصل ذخیرہ کرنے سے بھی گھبرا رہا ہے اس وقت بڑا زمیندار فصل بیچنے کی بجائے ذخیرہ کر رہا ہے جس کے نتائج کیا ہوں گے کہ بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔
عالمی منڈیاں جن میں پاکستانی آلو جاتاہے
افغانستان کے علاو متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، سری لنکا، ملائیشیا اور عمان ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صرف افغانستان کے راستہ بند ہونے سے قیمتوں میں اتنا فرق کیوں پڑا۔ اس بارے میں حکومت پاکستان اس وقت خاموش تماشائی ہیں۔
دنیا کے وہ ممالک جو آلو کی بہت زیادہ درآمدات کرتے ہیں لیکن پاکستان سے نہیں کرتے۔
بیلجیئم (Belgium)، نیدرلینڈ (Netherlands)، سپین (Spain)، امریکہ (United States)، جرمنی (Germany)، فرانس (France)، اٹلی (Italy)، جاپان (Japan) اور پرتگال (putagal)۔
عام عوام کی خواہش ہے کہ جب یہ ممالک آلو درآمد کرتے ہیں تو حکومتی سطح پر ان ممالک سے تجارتی معاہدے کیوں نہیں ہو رہے۔
افغانستان جیسا ملک اپنی زرعی معیشت اور برآمدات کے حجم کو مضبوط کرنے میں لگا ہوا ہے لیکن قدرتی طور پر زراعت سے مالا مال پاکستان، حکومت کی ناکارہ پالیسیوں کی وجہ سے زوال پزیر ہے۔
English Version of this Post
https://www.guidedbite.com/posts/silence-of-government-institutions-exploitation-of-potato-growers